بلند فشار خون High Blood Pressure

High Blood Pressure
بلند فشار خون



۔
یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ فشار خون ہر شخص میں ہے جب یہ بلند ہوجائے تو مرض ہے۔ بلند فشار خون کی تشخیص اس طرح نادانی سے اور سرسری انداز سے نہیں کرنا چاہیے۔ گوکہ یہ اس وقت سب سے عام بیماری ہے‘ جس میں ہماری آبادی کے تقریباً بیس فیصد آدمی مبتلا ہیں‘ یعنی ہر پانچ آدمیوں میں سے ایک‘ اور جیسے جیسے‘ مناسب تشخیصی سہولتیں فراہم ہوتی جائیں گی‘ مزید ایسے آدمیوں کا علم ہوتا جائے گا‘ جو اس مرض میں مبتلا تو ہیں‘ لیکن اپنے مرض سے لاعلم ہیں۔
یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ اس بیماری کے عام ہونے کے باوجود‘ اکثر لوگ اس کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور ذرائع ابلاغ کی سہولتوں سے بھی عوام تک جو سنی سنائی باتیں پہنچتی ہیں وہ نامکمل اور اکثر اوقات گمراہ کن ہوتی ہیں۔
بلند فشار خون کی حالت میں‘ لال رگوں میں خون جس قوت سے گردش کررہا ہے وہ معمول سے زیادہ ہے۔ اس قوت کی بنا پر گو خون کی روانی آگے کی طرف ہورہی ہے جو مقصود ہے لیکن رگوںکا ظرف کم ہے اور ان میں خون سمانے کی گنجائش قلیل ہے‘ اس لیے خون کے زور قوت کا اثر و دبائو رگوں کے اطراف وجانب پر بھی پڑتا ہے جو بلا ضرورت ہے‘ اور جب ایک حد سے بڑھ جائے تو مضر ہوتا ہے اور یہ صورت حال اس بات کا اظہار ہے کہ فشار خون بڑھ کر بلند فشار خون کے مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے۔
اس کی مثال باغ کو سیراب کرنے والی نلکی کی طرح ہے‘ جس میں پانی ایک خاص دبائو پر آرہا ہے‘ اس نلکی کے منہ پر جو ٹونٹی لگی ہوئی ہے وہ اگر تنگ کردی جائے تو پچھلی تمام نلکی میں پانی کا دبائو بڑھ جائے گا۔ بعینہ صورت حال انسانی جسم میں ہے۔ ایک طرف دل ہے جو ایک خاص دبائو پر اخراج خون کررہا ہے تاکہ رگوں کو خون مہیا ہو اور اس کی گردش جاری رہے‘ دوسری طرف رگیں ہیں جن میں یہ خون آرہا ہے۔ اگر لال رگیں کسی وجہ سے اپنے اگلے سروں پر سے تنگ ہوجائیں تو پچھلی تمام لال رگوں میں فشار خون بڑھ جائے گا اور بلند فشار خون میں یہی ہوتا ہے۔ جب رگوں میں خون کا دبائو بڑھتا ہے تو وہ گاڑی کے اس پہیہ سے مشابہ ہے‘ جس میں ہوا زیادہ ہے اور پھٹنے کا اندیشہ ہے۔
بلند فشار خون ایک عارضی کیفیت بھی ہوسکتی ہے جو بعض حالات میں ظاہر ہوجاتی ہے اور مستقل حالت بھی اور یہ آپ سے آپ بغیر کسی ظاہری وجہ کے یعنی اصل بھی ہوسکتی ہے اور کسی دوسری بیماری کے سبب سے یعنی ثانوی بھی ہوسکتی ہے۔ اپنے اسباب سے قطع نظر ایک مرتبہ ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ قائم اور بڑھتی رہتی ہے بلکہ اپنے مضر اثرات کے باعث اعضائے رئیسہ کو نقصان پہنچاتی ہے‘ اور بالاخر ان کو مائوف کردیتی ہے اور اس کی آخری اور سنگین شکل بلند فشار خون ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے بموجب ایک بالغ آدمی کا فشار خون جب 150/90 سے بلند ہوجائے تو بلند فشار خون کی تعریف میں آتا ہے۔
عوض مرض
بلند فشار خون کا اظہار‘ تین طرح پر مرحلہ وار ہوتا ہے۔
١۔ غیر شکایاتی مرحلہ:
گویہ بات تعجب خیز معلوم ہوگی اور عام عقیدہ کے خلاف ہے‘ مگر یہ حقیقت ہے کہ بلند فشار خون میں مبتلا لوگوں کو اول اول‘ کوئی نمایاں شکایات نہیں ہوتی‘ اس طرح یہ دوسرے امراض سے مختلف ہے‘ کہ زیادہ تر امراض میں کوئی نہ کوئی شکایت بیمار کو ضرور ہوتی ہے اور وہی اس کو طبیب کے پاس لے جاتی ہے کہ اسہال و بخار کی شکایت ہو تو بیمار اس سے نجات پانے کے لیے طبی امداد چاہتا ہے۔ بلند فشار میں مبتلا اکثر لوگ اپنے آپ کو اچھا‘ صحت مند اور طاقت ور محسوس کرتے ہیں اور دیکھنے میں بھی صحت و تندرستی کی تصویر ہوتے ہیں بلکہ ستم یہ ہے کہ علاج کے بعد کمزوری کی شکایت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی شکل دیکھ کر کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ مریض ہیں ایک تجربہ کار طبیب بھی نہیں‘ کہ بلند فشار خون اکثر خاموش اور مخفی ہوتا ہے اور اس کا علم کسی اتفاقیہ طبی معائنہ کے وقت اچانک ہوتا ہے‘ ورنہ اس سے قبل اس کی موجودگی کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی مثال کسی خفیہ غدار کی سی ہے جو شہر کے اندر موجود ہے اور اچانک شب خون مارتا ہے اور مہلک ہوتا ہے۔
اس لیے یہ ضروری امر ہے کہ ہر شخص اپنے فشار خون کے متعلق باخبر رہے اور اس بات کا انتظار نہیں کرے کہ کوئی تکلیف ہو تو طبیب کے پاس جائے کہ تکلیف شروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسم کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اگر تکلیف سے قبل اس مرض کا علم ہوجائے تو آیندہ ہونے والے مہلک پیچیدگیوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب ان بیماروں کا علاج کیا جاتا ہے تو فشار خون گرنے کی وجہ سے بیمار کو شروع میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی ہے جو علاج سے پہلے نہیں تھی اور اس کو آیندہ کی صحت کی خاطر برداشت کرنا چاہیے کہ یہ کمزوری رفتہ رفتہ جاتی رہے گی اور بیمار ادویہ سے ہم آہنگ ہوجائے گا۔

٢۔ شکایاتی مرحلہ:
کچھ لوگوں کو بلند فشار خون کے ساتھ ساتھ چند شکایتیں بھی ہوتی ہیں‘ یعنی تھکن ہوتی ہے‘ گھمیری آسکتی ہے جس میں ہر شے گھومتی ہوئی معلوم دیتی ہے‘ درد سر ہوجاتا ہے‘ خصوصاً کھوپڑی کے پچھلے حصہ میں۔ یہ درد عموماً بیمار کو صبح سوتے سے جگا دیتا ہے‘ بعض دفعہ درد سر میں چٹک ہوتی ہے‘ جو سر اور گردن میں معلوم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ بے زاری‘ چڑچڑاہٹ‘ بے خوابی‘ تلخی مزاج‘ نسیان‘ دماغ چکرانا‘ نکسیر پھوٹنا اور پراگندہ خیالی ہوسکتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس طرح کی شکایات ان لوگوں میں بھی عام ہیں۔ جن کا فشار خون درست ہے۔ اس لیے یہ کہنا سخت مشکل ہے کہ یہ شکایتیں فشار خون کے باعث ہیں! دراصل فشار خون اور یہ شکایتیں ایک مخصوص افتاد طبیعت کا مظہر ہیں‘ جن میں بلند فشار خون بھی اسی طرح ہوتا ہے‘ جیسے بے خوابی اور نہ بے خوابی کی وجہ سے بلند فشار خون ہوتا ہے‘ اور نہ بلند فشار خون کے سبب سے بے خوابی۔
اس بات سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے فشار خون کی پیمائش کرانا چاہیے‘ قطع نظر اس کے کوئی تکلیف ہو یا نہ ہو یہ عموماً بلا تکلیف کے سالہا سال رہتا ہے اور اگر فشار خون کی بالائی حدود 150/90 سمجھی جائیں تو ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ اس میں مبتلا ہے‘ اور بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں اکثر کو اس کی خبر نہیں ہے۔
٣۔ پیچیدگیوں کا مرحلہ:
پیچیدگیاں‘ بلند فشار خون کا سب سے عام طریقہ اظہار بھی ہیں‘ اور سب سے ہولناک نتیجہ بھی‘ اور اس حد تک فشار خون کو کبھی بھی پہنچنے نہیں دینا چاہیے۔ اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جن لوگوں کو فشار خون معمول سے زیادہ ہے‘ ان کے اعضائے رئیسہ کو بتدریج صدمہ اور نقصان پہنچے گا‘ اور انجام کار اوسط عمر کم ہوتی جائے گی۔ بلند فشار خون میں مبتلا لوگوں میں عام آبادی کی نسبت فالج 7 گنا‘ فشل قلب 4 گنا‘ امراض کارونری 3 گنا اور مضافاتی لال رگوں کی تنگی اور سختی دوگنا زیادہ ہوتے ہیں۔
اس بات کی وسیع پیمانہ پر تشہیر کی ضرورت ہے کہ جس وقت بلند فشار خون کا علم ہوتا ہے‘ اس وقت تک کافی ضرر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ لوگ کافی خوش نصیب ہیں جن کا فشار خون صحیح وقت پر قبل از حادثہ معلوم ہوجائے۔
جو اعضائے رئیسہ بالخصوص بلند فشار خون کی زد میں ہیں وہ دل‘ دماغ‘ آنکھیں اور گردے ہیں۔
(١) دل اور رگیں: بلند فشار خون سے‘ رگوں کی دیواریں اندرونی اطراف سے دب رہی ہیں اور جب فشار خون زیادہ ہوجائے تو زیادہ دبائو پڑے گا‘ جھس طرح گاڑی کے ٹائر میں‘ ہوا مقدار سے زیادہ بھر جائے تو ہر وقت یہ خطرہ لگا رہے گا کہ کہیں پھٹ نہیں جائے۔ متواتر بلند فشار خون کے سبب‘ رگیں‘ سخت‘ کھردری‘ شکستہ اور ناہموار ہوجاتی ہیں اور ان کے استرا پر داغ پڑ جاتے ہیں جو کہیں کہیں سے ابھرے ہوئے ہوتے ہیں‘ یہ رگوں کی صلابت‘ سختی اور تنگی ہے۔ اگر یہ صلابت پہلے سے موجود ہے تو بلند فشار خون کے سبب سے‘ یہ صلایت تیز تر ہوجائے گی اور جس عضو تک یہ رگیں خون لے کر جارہی ہیں وہ پوری طرح سیراب نہیں ہوگا‘ اور اس عضو کی خون رسانی مخدوش ہوکر اس عضو کو نقصان پہنچائے گئی۔ یوں تو تمام رگیں اس دبائو کی زیادتی سے متاثر ہوتی ہیں‘ لیکن زیادہ نقصان‘ مغز‘ گردہ اور دل کی رگوں کو پہنچتا ہے‘ دل میں ایجائینا کا امکان بڑھتا ہے اور حملہ قلب کی راہ ہموار ہوتی ہے‘ دماغ میں یہ فالج کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور اور ٹانگوں میں اس کی وجہ سے چلنے میں درد ہوجاتا ہے اور رفتہ یہ مضافاتی لال رگیں اس قدر تنگ ہوسکتی ہیں کہ پائوں کی انگلیوں کو حسب ضرورت خون نہیں ملے اور یہ انگلیاں گلنا شروع ہوجائیں۔
اس طرح تمام لال رگوں پر بلند فشار خون کے سبب نہایت تباہ کن اثر پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ فشار خون بلند ہوکر قائم ہوجائے تو رگوں کے شجرہ کو ناقابل تلافی صدمہ پہنچتا ہے اور نقصان اسی قدر ہوتا ہے‘ حس قدر کہ بلند فشار خون ہے‘ گو عمر جنس اور دوسرے عوامل کا بھی اس نقصان کے پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ہے۔
فشار خون کی سطح کا براہ راست تعلق‘ امراض قلب سے ہے‘ یعنی جس قدر کہ سطح بلند ہوگی اس قدر قلب پر اثر پڑے گا‘ خصوصاً مردوں میں اس کے اثرات زیادہ مضر ہیں۔ بلند فشار خون دل پر‘ مختلف اطراف سے اثر انداز ہوتا ہے (١) دل کو بلند فشار خون کی موجودگی میں اپنی بساط اور استطاعت سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے کہ اپنے کام کو مناسب طور پر سرانجام دینے کے لیے یہ بھولنا پھیلنا شروع کردیتا ہے‘ اور اسی سبب سے دل غیر صحت مند طریقہ پر فربہ ہوجاتا ہے کہ اپنی زور آوری سے ان رگوں میں اخراج خون کررہا ہے‘ جہاں آگے ہی فشار خون زیادہ ہے اور جیسے جیسے یہ رگوں کا سلسلہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے‘ اسی قدر دل کے لیے کام سر انجام دینا مشکل ہوجاتا ہے اور اسی قدر دل فربہ اور ضخیم ہوجاتا ہے۔ (٢) اس ضخیم اور فربہ دل کو زیادہ خون کی ضرورت پڑے گی‘ جو تنگ کارونری رگوں سے مہیا نہیں ہوتی اور انجائینا کی شکایت پیدا ہوجائے گی۔
(٣) جب دل سے کماحقہ اخراج خون نہیں ہوگا کہ دل کمزور ہے اور رگوں میں خون کا دبائو زیادہ ہے‘ تو دل کے پچھواڑے یعنی پھیپڑوں میں خون کا اجتماع ہونے لگے گا اور اس طرح قلبی دمہ کے آثار نمودار ہوں گے‘ یعنی دم پھولے گا‘ بیمار ہاپنے لگے گا‘ لیٹنے کی بہ نسبت‘ بیٹھنے میں آرام ملے گا‘ ایسے بیمار رات کو آرام و اطمینان سے سو نہیں سکتے اور زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں اور اکثر اوقات یہ فشل قلب ہی موت کا باعث ہوتی ہے۔
اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ اگر فشار خون کو مناسب اور درسدت رکھا جائے تو رگوں کے امراض کی شدت میں کمی آجاتی ہے اور دل کا فعل درست رہتا ہے اور اس کے مظاہر یعنی اینجائینا اور حملہ قلب ملتوی ہوجاتے ہیں‘ فشل قلب اور قلبی دمہ کا امکان گھٹ جاتا ہے‘ اگر یہ وقوع پذیر ہو بھی جائے تو علاج سے قابو میں آجاتے ہیں‘ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ علاج کرانے کے باوجود امراض قلب ہوجاتا ہے‘ یہ صحیح نہیں‘ دراصل فشار خون کا پتا دیر سے چلتا ہے اور علاج دیر میں ہوتا ہے اور اس وقت تک رگوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے‘ اس لیے نصب العین اور سعی یہ ہونا چاہیے کہ جس قدر جلد ہوسکے بلند فشار خون کا علم ہوجائے تاکہ حملہ قلب کا
سدباب ہوسکے اور اس غرض سے قومی سطح اور پیمانے پر فشار خون کی تلاش کی جائے
 ہائی بلڈ پریشر اور اس کے علاج :
بی پی Normaliser
یہ مضمون صرف معلومات کے لئے ہے
شکریہ کے ساتھ

Homeopathic Treatment

Homeopathic Treatment
361,Bharad Galli Mohammed Ali Road MALEGAON (MS) India