بلند فشار خون High Blood Pressure

High Blood Pressure
بلند فشار خون



۔
یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ فشار خون ہر شخص میں ہے جب یہ بلند ہوجائے تو مرض ہے۔ بلند فشار خون کی تشخیص اس طرح نادانی سے اور سرسری انداز سے نہیں کرنا چاہیے۔ گوکہ یہ اس وقت سب سے عام بیماری ہے‘ جس میں ہماری آبادی کے تقریباً بیس فیصد آدمی مبتلا ہیں‘ یعنی ہر پانچ آدمیوں میں سے ایک‘ اور جیسے جیسے‘ مناسب تشخیصی سہولتیں فراہم ہوتی جائیں گی‘ مزید ایسے آدمیوں کا علم ہوتا جائے گا‘ جو اس مرض میں مبتلا تو ہیں‘ لیکن اپنے مرض سے لاعلم ہیں۔
یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ اس بیماری کے عام ہونے کے باوجود‘ اکثر لوگ اس کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور ذرائع ابلاغ کی سہولتوں سے بھی عوام تک جو سنی سنائی باتیں پہنچتی ہیں وہ نامکمل اور اکثر اوقات گمراہ کن ہوتی ہیں۔
بلند فشار خون کی حالت میں‘ لال رگوں میں خون جس قوت سے گردش کررہا ہے وہ معمول سے زیادہ ہے۔ اس قوت کی بنا پر گو خون کی روانی آگے کی طرف ہورہی ہے جو مقصود ہے لیکن رگوںکا ظرف کم ہے اور ان میں خون سمانے کی گنجائش قلیل ہے‘ اس لیے خون کے زور قوت کا اثر و دبائو رگوں کے اطراف وجانب پر بھی پڑتا ہے جو بلا ضرورت ہے‘ اور جب ایک حد سے بڑھ جائے تو مضر ہوتا ہے اور یہ صورت حال اس بات کا اظہار ہے کہ فشار خون بڑھ کر بلند فشار خون کے مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے۔
اس کی مثال باغ کو سیراب کرنے والی نلکی کی طرح ہے‘ جس میں پانی ایک خاص دبائو پر آرہا ہے‘ اس نلکی کے منہ پر جو ٹونٹی لگی ہوئی ہے وہ اگر تنگ کردی جائے تو پچھلی تمام نلکی میں پانی کا دبائو بڑھ جائے گا۔ بعینہ صورت حال انسانی جسم میں ہے۔ ایک طرف دل ہے جو ایک خاص دبائو پر اخراج خون کررہا ہے تاکہ رگوں کو خون مہیا ہو اور اس کی گردش جاری رہے‘ دوسری طرف رگیں ہیں جن میں یہ خون آرہا ہے۔ اگر لال رگیں کسی وجہ سے اپنے اگلے سروں پر سے تنگ ہوجائیں تو پچھلی تمام لال رگوں میں فشار خون بڑھ جائے گا اور بلند فشار خون میں یہی ہوتا ہے۔ جب رگوں میں خون کا دبائو بڑھتا ہے تو وہ گاڑی کے اس پہیہ سے مشابہ ہے‘ جس میں ہوا زیادہ ہے اور پھٹنے کا اندیشہ ہے۔
بلند فشار خون ایک عارضی کیفیت بھی ہوسکتی ہے جو بعض حالات میں ظاہر ہوجاتی ہے اور مستقل حالت بھی اور یہ آپ سے آپ بغیر کسی ظاہری وجہ کے یعنی اصل بھی ہوسکتی ہے اور کسی دوسری بیماری کے سبب سے یعنی ثانوی بھی ہوسکتی ہے۔ اپنے اسباب سے قطع نظر ایک مرتبہ ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ قائم اور بڑھتی رہتی ہے بلکہ اپنے مضر اثرات کے باعث اعضائے رئیسہ کو نقصان پہنچاتی ہے‘ اور بالاخر ان کو مائوف کردیتی ہے اور اس کی آخری اور سنگین شکل بلند فشار خون ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے بموجب ایک بالغ آدمی کا فشار خون جب 150/90 سے بلند ہوجائے تو بلند فشار خون کی تعریف میں آتا ہے۔
عوض مرض
بلند فشار خون کا اظہار‘ تین طرح پر مرحلہ وار ہوتا ہے۔
١۔ غیر شکایاتی مرحلہ:
گویہ بات تعجب خیز معلوم ہوگی اور عام عقیدہ کے خلاف ہے‘ مگر یہ حقیقت ہے کہ بلند فشار خون میں مبتلا لوگوں کو اول اول‘ کوئی نمایاں شکایات نہیں ہوتی‘ اس طرح یہ دوسرے امراض سے مختلف ہے‘ کہ زیادہ تر امراض میں کوئی نہ کوئی شکایت بیمار کو ضرور ہوتی ہے اور وہی اس کو طبیب کے پاس لے جاتی ہے کہ اسہال و بخار کی شکایت ہو تو بیمار اس سے نجات پانے کے لیے طبی امداد چاہتا ہے۔ بلند فشار میں مبتلا اکثر لوگ اپنے آپ کو اچھا‘ صحت مند اور طاقت ور محسوس کرتے ہیں اور دیکھنے میں بھی صحت و تندرستی کی تصویر ہوتے ہیں بلکہ ستم یہ ہے کہ علاج کے بعد کمزوری کی شکایت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی شکل دیکھ کر کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ مریض ہیں ایک تجربہ کار طبیب بھی نہیں‘ کہ بلند فشار خون اکثر خاموش اور مخفی ہوتا ہے اور اس کا علم کسی اتفاقیہ طبی معائنہ کے وقت اچانک ہوتا ہے‘ ورنہ اس سے قبل اس کی موجودگی کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی مثال کسی خفیہ غدار کی سی ہے جو شہر کے اندر موجود ہے اور اچانک شب خون مارتا ہے اور مہلک ہوتا ہے۔
اس لیے یہ ضروری امر ہے کہ ہر شخص اپنے فشار خون کے متعلق باخبر رہے اور اس بات کا انتظار نہیں کرے کہ کوئی تکلیف ہو تو طبیب کے پاس جائے کہ تکلیف شروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسم کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اگر تکلیف سے قبل اس مرض کا علم ہوجائے تو آیندہ ہونے والے مہلک پیچیدگیوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب ان بیماروں کا علاج کیا جاتا ہے تو فشار خون گرنے کی وجہ سے بیمار کو شروع میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی ہے جو علاج سے پہلے نہیں تھی اور اس کو آیندہ کی صحت کی خاطر برداشت کرنا چاہیے کہ یہ کمزوری رفتہ رفتہ جاتی رہے گی اور بیمار ادویہ سے ہم آہنگ ہوجائے گا۔

٢۔ شکایاتی مرحلہ:
کچھ لوگوں کو بلند فشار خون کے ساتھ ساتھ چند شکایتیں بھی ہوتی ہیں‘ یعنی تھکن ہوتی ہے‘ گھمیری آسکتی ہے جس میں ہر شے گھومتی ہوئی معلوم دیتی ہے‘ درد سر ہوجاتا ہے‘ خصوصاً کھوپڑی کے پچھلے حصہ میں۔ یہ درد عموماً بیمار کو صبح سوتے سے جگا دیتا ہے‘ بعض دفعہ درد سر میں چٹک ہوتی ہے‘ جو سر اور گردن میں معلوم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ بے زاری‘ چڑچڑاہٹ‘ بے خوابی‘ تلخی مزاج‘ نسیان‘ دماغ چکرانا‘ نکسیر پھوٹنا اور پراگندہ خیالی ہوسکتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس طرح کی شکایات ان لوگوں میں بھی عام ہیں۔ جن کا فشار خون درست ہے۔ اس لیے یہ کہنا سخت مشکل ہے کہ یہ شکایتیں فشار خون کے باعث ہیں! دراصل فشار خون اور یہ شکایتیں ایک مخصوص افتاد طبیعت کا مظہر ہیں‘ جن میں بلند فشار خون بھی اسی طرح ہوتا ہے‘ جیسے بے خوابی اور نہ بے خوابی کی وجہ سے بلند فشار خون ہوتا ہے‘ اور نہ بلند فشار خون کے سبب سے بے خوابی۔
اس بات سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے فشار خون کی پیمائش کرانا چاہیے‘ قطع نظر اس کے کوئی تکلیف ہو یا نہ ہو یہ عموماً بلا تکلیف کے سالہا سال رہتا ہے اور اگر فشار خون کی بالائی حدود 150/90 سمجھی جائیں تو ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ اس میں مبتلا ہے‘ اور بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں اکثر کو اس کی خبر نہیں ہے۔
٣۔ پیچیدگیوں کا مرحلہ:
پیچیدگیاں‘ بلند فشار خون کا سب سے عام طریقہ اظہار بھی ہیں‘ اور سب سے ہولناک نتیجہ بھی‘ اور اس حد تک فشار خون کو کبھی بھی پہنچنے نہیں دینا چاہیے۔ اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جن لوگوں کو فشار خون معمول سے زیادہ ہے‘ ان کے اعضائے رئیسہ کو بتدریج صدمہ اور نقصان پہنچے گا‘ اور انجام کار اوسط عمر کم ہوتی جائے گی۔ بلند فشار خون میں مبتلا لوگوں میں عام آبادی کی نسبت فالج 7 گنا‘ فشل قلب 4 گنا‘ امراض کارونری 3 گنا اور مضافاتی لال رگوں کی تنگی اور سختی دوگنا زیادہ ہوتے ہیں۔
اس بات کی وسیع پیمانہ پر تشہیر کی ضرورت ہے کہ جس وقت بلند فشار خون کا علم ہوتا ہے‘ اس وقت تک کافی ضرر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ لوگ کافی خوش نصیب ہیں جن کا فشار خون صحیح وقت پر قبل از حادثہ معلوم ہوجائے۔
جو اعضائے رئیسہ بالخصوص بلند فشار خون کی زد میں ہیں وہ دل‘ دماغ‘ آنکھیں اور گردے ہیں۔
(١) دل اور رگیں: بلند فشار خون سے‘ رگوں کی دیواریں اندرونی اطراف سے دب رہی ہیں اور جب فشار خون زیادہ ہوجائے تو زیادہ دبائو پڑے گا‘ جھس طرح گاڑی کے ٹائر میں‘ ہوا مقدار سے زیادہ بھر جائے تو ہر وقت یہ خطرہ لگا رہے گا کہ کہیں پھٹ نہیں جائے۔ متواتر بلند فشار خون کے سبب‘ رگیں‘ سخت‘ کھردری‘ شکستہ اور ناہموار ہوجاتی ہیں اور ان کے استرا پر داغ پڑ جاتے ہیں جو کہیں کہیں سے ابھرے ہوئے ہوتے ہیں‘ یہ رگوں کی صلابت‘ سختی اور تنگی ہے۔ اگر یہ صلابت پہلے سے موجود ہے تو بلند فشار خون کے سبب سے‘ یہ صلایت تیز تر ہوجائے گی اور جس عضو تک یہ رگیں خون لے کر جارہی ہیں وہ پوری طرح سیراب نہیں ہوگا‘ اور اس عضو کی خون رسانی مخدوش ہوکر اس عضو کو نقصان پہنچائے گئی۔ یوں تو تمام رگیں اس دبائو کی زیادتی سے متاثر ہوتی ہیں‘ لیکن زیادہ نقصان‘ مغز‘ گردہ اور دل کی رگوں کو پہنچتا ہے‘ دل میں ایجائینا کا امکان بڑھتا ہے اور حملہ قلب کی راہ ہموار ہوتی ہے‘ دماغ میں یہ فالج کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور اور ٹانگوں میں اس کی وجہ سے چلنے میں درد ہوجاتا ہے اور رفتہ یہ مضافاتی لال رگیں اس قدر تنگ ہوسکتی ہیں کہ پائوں کی انگلیوں کو حسب ضرورت خون نہیں ملے اور یہ انگلیاں گلنا شروع ہوجائیں۔
اس طرح تمام لال رگوں پر بلند فشار خون کے سبب نہایت تباہ کن اثر پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ فشار خون بلند ہوکر قائم ہوجائے تو رگوں کے شجرہ کو ناقابل تلافی صدمہ پہنچتا ہے اور نقصان اسی قدر ہوتا ہے‘ حس قدر کہ بلند فشار خون ہے‘ گو عمر جنس اور دوسرے عوامل کا بھی اس نقصان کے پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ہے۔
فشار خون کی سطح کا براہ راست تعلق‘ امراض قلب سے ہے‘ یعنی جس قدر کہ سطح بلند ہوگی اس قدر قلب پر اثر پڑے گا‘ خصوصاً مردوں میں اس کے اثرات زیادہ مضر ہیں۔ بلند فشار خون دل پر‘ مختلف اطراف سے اثر انداز ہوتا ہے (١) دل کو بلند فشار خون کی موجودگی میں اپنی بساط اور استطاعت سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے کہ اپنے کام کو مناسب طور پر سرانجام دینے کے لیے یہ بھولنا پھیلنا شروع کردیتا ہے‘ اور اسی سبب سے دل غیر صحت مند طریقہ پر فربہ ہوجاتا ہے کہ اپنی زور آوری سے ان رگوں میں اخراج خون کررہا ہے‘ جہاں آگے ہی فشار خون زیادہ ہے اور جیسے جیسے یہ رگوں کا سلسلہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے‘ اسی قدر دل کے لیے کام سر انجام دینا مشکل ہوجاتا ہے اور اسی قدر دل فربہ اور ضخیم ہوجاتا ہے۔ (٢) اس ضخیم اور فربہ دل کو زیادہ خون کی ضرورت پڑے گی‘ جو تنگ کارونری رگوں سے مہیا نہیں ہوتی اور انجائینا کی شکایت پیدا ہوجائے گی۔
(٣) جب دل سے کماحقہ اخراج خون نہیں ہوگا کہ دل کمزور ہے اور رگوں میں خون کا دبائو زیادہ ہے‘ تو دل کے پچھواڑے یعنی پھیپڑوں میں خون کا اجتماع ہونے لگے گا اور اس طرح قلبی دمہ کے آثار نمودار ہوں گے‘ یعنی دم پھولے گا‘ بیمار ہاپنے لگے گا‘ لیٹنے کی بہ نسبت‘ بیٹھنے میں آرام ملے گا‘ ایسے بیمار رات کو آرام و اطمینان سے سو نہیں سکتے اور زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں اور اکثر اوقات یہ فشل قلب ہی موت کا باعث ہوتی ہے۔
اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ اگر فشار خون کو مناسب اور درسدت رکھا جائے تو رگوں کے امراض کی شدت میں کمی آجاتی ہے اور دل کا فعل درست رہتا ہے اور اس کے مظاہر یعنی اینجائینا اور حملہ قلب ملتوی ہوجاتے ہیں‘ فشل قلب اور قلبی دمہ کا امکان گھٹ جاتا ہے‘ اگر یہ وقوع پذیر ہو بھی جائے تو علاج سے قابو میں آجاتے ہیں‘ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ علاج کرانے کے باوجود امراض قلب ہوجاتا ہے‘ یہ صحیح نہیں‘ دراصل فشار خون کا پتا دیر سے چلتا ہے اور علاج دیر میں ہوتا ہے اور اس وقت تک رگوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے‘ اس لیے نصب العین اور سعی یہ ہونا چاہیے کہ جس قدر جلد ہوسکے بلند فشار خون کا علم ہوجائے تاکہ حملہ قلب کا
سدباب ہوسکے اور اس غرض سے قومی سطح اور پیمانے پر فشار خون کی تلاش کی جائے
 ہائی بلڈ پریشر اور اس کے علاج :
بی پی Normaliser
یہ مضمون صرف معلومات کے لئے ہے
شکریہ کے ساتھ

صرف تین گرام نمک کم کرکے دل کو صحتمند رکھیئے

کسی طرح سے خوراک میں نمک کی معمولی سی کمی کرکے خود کو زیادہ صحت مند رکھا جاسکتا ہے اور اِس سلسلے میں جہاں بہت سی رسرچ ہورہی ہے وہاں امریکہ میں بھی ایک رسرچ کی گئی جِس میں یہ پتا چلانے کی کوشش کی گئی کہ خوراک میں صرف تین گرام نمک کم کرکے دل کو کس طرح صحتمند رکھا جاسکتا ہے۔
نمک کے ہر گرام میں 400ملی گرام سوڈیم ہوتا ہے اور سوڈیم نمک کا عنصر ہے جو کہ نقصان دہ ہے، جب کہ پوٹیشیم دوسرا عنصر ہے جو کہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh0lHCyQAhS_8IhVtcMWFM_DbUMkD_D7ePkh-5-sxoUr4Zz1ULpiBUTQRR2nZALhvJYfZi_-Qp2Y_LH0pd1Hgt_BfAJeqg3zgTXfkHHVpEWUvUDl4iV6WfiSmwPsqlD9xYk_28ptpgDt9o/s320/SaltShaker.jpg
اِس تحقیق کی مصنفہ یونیوسٹی آف کیلی فورنیا کی کرسٹین ہیں جو کہتی ہیں کہ تین گرام نمک کم کرنے سے خوراک کے ذائقے میں کھانے والے کو پتا تک نہیں چلتا لیکن اُن کی صحت پر اُس کا بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔
امریکہ کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اوسطاً ہر امریکی شخص روزانہ 10گرام نمک استعمال کرتا ہے، جب کہ امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن کا مشورہ یہ ہے کہ صحتمند لوگوں کو روزانہ تین گرام سے زیادہ نمک استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ لہٰذا، اِس کا مطلب یہ ہوا کہ روزانہ ہر امریکی تین گنا سے زیادہ نمک استعمال کررہا ہے۔
امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن نے بتایا کہ 1970ء کے عشرے کے بعد سے امریکیوں کی خوراک میں نمک کی مقدار میں 50فی صد اضافہ ہوچکا ہے اور اِس طرح امریکیوں میں بلڈ پریشر کی شرح بھی بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خوراک میں نمک کا استعمال کم کردیا جائے تو لازماً اِس کا مطلب بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں کمی کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
یہاں نیو یارک سٹی میں نمک کی مقدار میں کمی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک قومی مہم چلائی جارہی ہے، جسے ’نیشنل سالٹ اِنی شئیٹو‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اِس مہم کا مقصد نہ صرف لوگوں کو آگاہ کیا جائے کہ نمک کس حد تک نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ بلکہ خوراک کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں اور ہوٹلوں پر بھی اِس بارے میں دباؤ ڈالا جائے کہ وہ نمک کم استعمال کریں اور خاص طور پہ اُس کا نقصان دہ عنصر سوڈیم۔
خوش قسمتی سے پاکستان بھارت اور جنوبی ایشیا کے تقریباً تمام ہی ایسے ملک ہیں جہاں بیشتر لوگ کھانے گھر پر ہی پکاتے اور کھاتے ہیں اور اِس طرح وہ نمک کی مقدار پر زیادہ آسانی سے قابو پاسکتے ہیں۔
تو کیوں نہ آپ یوں کریں کہ جِس کھانے میں آپ پہلے ایک چائے کے چمچ کے برابر نمک ڈالتے تھے اُس میں تھوڑا سا کم کرکے اُس کو پون کے قریب کردیں۔ إِس طرح، کھانے والوں کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کم ہے اور دوسری ترکیب جو امریکہ میں بھی ڈاکٹر بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر آپ کھانے میں ٹماٹر یا نیبو کے رس کو استعمال کریں تو خود بخود نمک کے ذائقے کی کمی پوری ہوجائے گی، جب کہ ٹماٹر اور نیبو کے استعمال کے خود بھی بہت سے فائدے ہیں۔

سائنس و صحت

یاد رکھیئے: ’نمک کم اور صحت بہتر۔

Misconception of Homoeopathy ( Urdu )




Homoeopathy Antidote

Everything that stimulates the organism needlessly and
Everything that steals energy from the organism, can antidote
Homoeopathic remedies.
As Homoeopaths, it is our duty to protect the defense
Mechanism of the human body so that it can do its job.
Stimulants such as caffeine in coffee and cola and black
tea have to be avoided. Camphor and mint have to be avoided.
Energy-altering substances such as allopathic medicines,
Especially cortisone and antibiotics should be forbidden and
Allowed only in special circumstances or emergencies.
Energy-stealing situations: grief, stress, humiliation and
any strong negative emotions can antidote homoeopathic rem-
edies. Therefore they need to be resolved speedily and ad-
equately.
As a Homoeopath, it is not good to be dogmatic. If one cup
of coffee antidotes the patient, then our patient is either ex-
tremely sensitive to coffee or there was something wrong with
the choice of our remedy. However, regular coffee drinking
should be avoided. Caffeine-free coffee contains 10 times less
caffeine than ordinary coffee, so some cups of caffeine free
coffee per week can hardly do any harm.
I had a patient who was very well on Homoeopathic treat-
ment, except for an unpleasant itching spot of eruptions. Fi-
nally the patient used the cortisone ointment and he has been
very well on every level since then.
Another example is of a patient who was mentally and
psychologically well after Homoeopathic treatment. He took
antibiotics for laryngitis. After the antibiotics, the patient fell
Even better and he have been well ever since.
These examples cannot be explained, but they show us that
We need not be fanatical and that our first concern is always
The patient, not our theories.
If you have a patient who does not want to slop caffeine you
can use the following tips: Explain to the patient that coffee
destroys the action of a Homoeopathic remedy in 50% of the
cases. If the patient does not get better after the remedy and he
goes on drinking coffee, he will make it impossible to judge
whether the remedy was wrong or whether the coffee antidoted
the remedy. Then let the patient choose.
Don't forget that Homoeopathic remedies can loose their
effect in strong sunlight, near aromatic substances, by tobacco
and sometimes after long storage.
There are a number of specific antidotes for certain rem-
edies:
a). Rain and cold baths can antidote Rhus tox.
b) Chamomilla tea can antidote Sulphur.
c). Fatty food can antidote Pulsatilla.
d). Sugar can antidote Argentum nit.
c). Vinegar and acid can antidote Sepia.
f) Alcohol can antidote Nux-vom and Lachesis.
g). Mint can strongly antidote Natrum mur.

Eating for Better Health

Food choices are one of the most individual parts of your life-style. Even family members who eat most meals together choose different amounts and different combinations of food. There is an almost unlimited variety of foods that fit into a heart-healthy diet.
Medical experts have identified certain nutrient components of food-fat, cholesterol, sodium, and calories-thai rela

te to heart disease. Your doctor will probably discuss with you individual recommendations, in terms such as grams of fat, milligrams of cholesterol and sodium, etc. Sometimes it is difficult to take the next step of translating these recommendations into everyday food choices. Registered dietitians are available to help you take the next step. Your doctor can refer you to one for help. This section briefly reviews some common recommendations and then helps you pull these facts together into an overall plan for eating more healthfully.
Unfortunately, many people get discouraged by nutrition advice because they mistakenly think that they cannot eat their favorite foods. A more positive and encouraging approach is to consider that no food is forbidden. Good health comes from eating a variety of foods-meats, dairy products, and especially vegetables, fruits, and grains-in moderate amounts. You may have to change some of your routine grocery purchases, some of your cooking methods, and the amounts of some foods you are accustomed to eating, but you do not have to take the enjoyment out of eating. In fact, you will probably discover some new tastes, and your new eating habits can lead to improvement in the way you look and feel.
The following section reviews the most common recommendations about fat, cholesterol, sodium, and calories. The recommendations form the basis for practical changes in food selections you can try in your own meals.

(Note: In This blog all contents are only for Information not medical prescriptions.)

Why Eat More Fish?

Fish is one of the leanest sources of protein you can choose. In fact, even the fish with the highest fat content compare favorably with the leanest cuts of red meats and poultry. Seafood contains little saturated fat (the kind of fat most likely to raise blood cholesterol). Include varied types offish and seafood in your menu at least twice a week.
People used to be advised to avoid some types of shellfish such as crab, clams, oysters, scallops, and lobster because of their supposedly high cholesterol content. However, new measuring techniques show that their cholesterol content is similar to that of lean beef and poultry. Of the shellfish, shrimp contains the most cholesterol, but it is very low in fat. A3-ounce serving of shellfish is acceptable once a week, but avoid deep-fat fried fish or fish prepared with heavy, cream-based sauces. Instead of melted butter, serve shrimp, crab, and lobster with lemon juice or cocktail sauce. Broil, bake, poach, or grill fish to retain its low-fat quality.

Reflaxtherapy


Reflaxtherapy is effective and safe treatment for gout, spondylisis,RA, Joint pain. etc.

HEALTH AND DISEASE

Health: Health is a normal state of the mind and body in which one feels no disease, Health is the harmonious play of life. The standard of health varies in different types of people according to their constitutions. When a person is in health, there is coordination between the will and the activities of the mind and body, and one is capable of protecting one self against those forces, which tend to derange it.
Disease: Disease is a changed state of life. It is an alteration in the normal functions of the mind and body. In homoeopathy the disease is considered to be the total sickness of the patients, which takes place due to the deranged state of the vital force by inimical influences and manifests through the totality of the symptoms of the sick individual.

Regards.

ADMINISTRATION OF HOMEOPATHIC REMEDIES:


The homoeopathic remedies are administered to the patients in three ways i.e. by olfaction, oral and local or external application .
Olfaction : When the jaws of the patient are clenched and the patient is unconscious, the remedy can be given in the way of olfaction. In this process the vial containing the medicine is held before one nostril so that the patient may inhale the vapour of the remedy. Such type of inhalation stimulates the nerve endings and the patient tends to get well. Besides these patients, the medicine is also given by way of olfaction when in highly sensitive patients the physician wants to give minimumdose to avoid aggravation.
Oral : The homoeopathic remedies are generally administered orally in the form of liquids, powders or globules o which one to two drops of liquid to be mixed with a tea-spool full of water, 4 to 8 grains of powder or 3 to 6 globules (of No 20) are enough for a dose of remedy.
Local or External Application : Various homoeopathic remedies can also be applied externally in the form of solution in water, alcohol or in the form of an ointment. Such as the Mother Tincture of Calendula is applied to cuts and wound and the Mother Tincture of Thuja is applied on warts. Th local application of Cantharis (3x) is especially used for burns Similarly, the ointment of Thuja is applied on warts, c Cantharis on burns and Scalds, of Calendula on wounds, c Graphites and Sulphur on Eczema, of Arnica on internal traumatic injuries, etc. etc.
REGARDS

Homeopathic Treatment

Homeopathic Treatment
361,Bharad Galli Mohammed Ali Road MALEGAON (MS) India